Home / Articles / آزاد زندگی

آزاد زندگی

آزاد زندگی

تحریر: امین آزاد

 زندگی کے سفر میں کچھ ملاقاتیں نہ صرف یاد گار بن جا تی ہیں بلکہ دل و د ماغ پر گہرے نقوش بھی چھوڑ جاتی ہیں خصوصا طالب علمی کا زمانہ ایسا ہوتا ہے کہ جب انسان ذمہ داریوں سے آزاد ہوتا اور عملی زندگی سے لطف اٹھانے کی کوشش کرتا ہے یہ لمحات ہمارے دل و دماغ پر نقش رہتے ہیں زندگی ایک مکتب ہے اور اس مکتب کے اندر ایک فطرت ہے ۔ زندگی ایک معلم کی حثیت سے کبھی سہانے خوابوں اور کبھی قربناک نیداریوں میں گز رنے کا سبق دیتی ہے انسان اس دنیا میں بے بسی ،اور شب و روزکا اسیر ہے کہیں کم سن شریر بچوں کے قہقے ہیں کہیں ویران نگاہوں میں خوشبو کی نوحہ گری ہے کہیں بے مسافت سفر میں مثل گل چہرے دکھائی دیں گے کہیں دل کے آنگن میں ہجر کا ماتم ہوتا ہے کہیں درد کے جوئے رواں میں وصل کی اتھا خوشیاں دکھائی دیتی ہیں بس یہ سر بستہ پروازیں زندگی کا منشور ہے زندگی کہیں طویل رات کے گھنے ا ند ھیر اور کہیں خزاں رسیدہ ساعتوں جیسی بھی ہے۔ کہیں یہ خوشبو کے منہ زور سمندر جیسی بھی دکھائی دیتی ہے کہیں کوئی سویا ہوا بچہ خوشی کا باعث بن جاتا ہے زندگی کہیں مئوذن کی آذان کی صدا سکون کا دامن پھیلا دیتی ہے ۔اور کہیں رات کا آنچل گھٹن کا خوف طاری کر دیتا ہے کہیں طفل شیر خوار آغوش مادر میں بھی جزبوں کی تلخیوں کا سبب بن جاتا ہے زندگی خدا وند قدوس کی ایک نعمت عظمی ہے زندگی کے صفحہ قرطاس پر کبھی سکھ کبھی دکھ اور کبھی راحت کی تحریریں رقم ہوتی رہتی ہیں کیوں کہ زندگی گو نہ گو جہتیں رکھتی ہے کبھی یہ شعر و ادب کا گلستان ہے کبھی یہ وصل کا شبستان ہے کہیں یہ ہجر کے غموں کا طوفان ہے کہیں یہ داغ و اضطراب کہیں سوچوں کے بے درد آنگن ۔اور کہیں ظلمتوں کی اندھیر نگری جیسی بھی ہے۔ زندگی کہیں خوشبو کا پیکر جآئو دانی شباب اور آبشاروں کے اطرافوں سے بھی زیادہ پر کشش ہے زندگی ایک آئینہ کی مانند ہے آئینہ ٹوٹ جائے اور پھر سے جوڑنے کی کوشش کی جائے تو دراریں باقی رہ جاتی ہیں زندگی فقط ایک بار ملتی ہے لہزا زندگی کے آئینہ کو دنیا کی ٹھوکروں اور دھول سے بچا کر رکھنا چاہیے تاکہ آخرت میں ہم اس میں اپنا صاف اور اصلی چہرا دیکھ سکیں یاد رکھیں زندگی جہاں دکھوں کا دریا ہے وہاں اس میں خوشی کی لہریں بھی ہیں زندگی پیارکا سمندر ہے ہے تو اس میں آنسئووں کی رم جھم بھی ہے زندگی پھولوں کی چھبن بھی ہے زندگی پیار ہے محبت ہے تو اس میں غم اور رنج بھہ ہیں زندگی زہر کا پیالہ ہے تو اس میں شہد کی مٹھاس بھی ہے زندگی تپتا ہوا صحرا ہے تو یہ بہار کی چھائوں بھی ہے زندگی ایک قید خانہ ہے تو یہ آزاد پروانہ بھی ہے زندگی صرف خوشبو کا نام نہیں اس میں کچھ درد بھی ہیں اگر تمہیں زندگی سے محبت ہے تو لوگوں سے محبت کرو شمع کی طرح زندگی بسر کرنا سیکھو جو خود جل کر دوسروں کو روشنی دیتی ہے

About todayspoint

Check Also

How to Play Web Videos After Uninstalling Flash

How to Play Web Videos After Uninstalling Flash

How to Play Web Videos After Uninstalling Flash. The readily moved net of an insect …

Leave a Reply